زبان و ادب اور سماج کا ایک دوسرے سے گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ نہ زبانیں ایک دن میں وجود میں آتی ہیں اور نہ سماج کا تانا بانا ایک لمحے میں تیار ہوتا ہے۔ دونوں کی تشکیل و ارتقا ایک مسلسل عمل ہیں۔ نسل در نسل زبانیں اور سماجی اقدار بطورِ میراث انسانوں کے حصے میں آتی ہیں۔ نتیجتاً ان کا تحفظ اور فروغ موجودہ نسل کی ذمہ داری ہوتی ہے تاکہ وہ آئندہ نسل تک پہنچ سکیں۔ اسی ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے “میراث” وجود میں آیا۔
زبانیں محض مافی الضمیر کے اظہار کا وسیلہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اس سماج اور خطے کے تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی بالواسطہ یا بلاواسطہ تاریخی شاہد بھی ہوتی ہیں، جس میں وہ زبان پروان چڑھتی ہے۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ برصغیرِ ہند، بالخصوص شمالی ہندوستان اور جنوبی ہندوستان کے بعض علاقوں میں، عہدِ وسطیٰ سے فارسی اور بعد کے دور میں اردو زبان کا چلن عام رہا۔ نتیجے کے طور پر ان زبانوں میں ہماری تہذیبی اور معاشرتی پہلو درج ہوتے رہے۔ جب گنگا جمنا تہذیب کی بات ہوتی ہے تو ہمارا ذہن ایک لمحے کے لیے ضرور قلی قطب شاہ اور نظیر اکبرآبادی کی نظموں کی طرف جاتا ہے۔
اردو کا ماضی نہایت شاندار رہا ہے۔ اسے ماضی میں درباری سرپرستی بھی نصیب ہوئی اور عوامی حمایت نے بھی اس کی آبیاری کی۔ موجودہ دور میں اردو کی صورتِ حال قدرے مایوس کن ہے، جس میں تنظیمی بے توجہی اور عوامی عدم دلچسپی، دونوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ سانحہ یہ ہے کہ اردو کے اساتذہ اور طلبہ نے بھی اس کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ عام قارئین کی دلچسپی بھی اس زبان سے بتدریج کم ہوتی گئی۔ نتیجتاً اس سے متعلق متعدد ادارے یا تو بند ہوگئے یا برائے نام چل رہے ہیں۔ آج بھی بہت سے مشہور و معتبر ادبا ایسے ہیں جن کی تمام تصانیف نہ آن لائن دستیاب ہیں اور نہ ہی مناسب اشاعتی ذرائع پر موجود ہیں۔ یہی اسباب “میراث” کے وجود میں آنے کا محرک بنے۔
میراث نے اپنے قاری کو مختلف زبانوں بالخصوص اردو زبان اور اس کی مضبوط و سنہری روایت سے جوڑنا نشانِ اول کے طور اپنایا ہے۔ کلاسیکی متن، داستان اور مثنوی سے لے کر موجودہ عہد تک اردو ادب کی نمایاں تخلیقات تک قاری کی رسائی کو ممکن بنانا میراث کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں۔