میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
علامہ اقبالسما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
علامہ اقبالعشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
علامہ اقبالکی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی
علامہ اقبالواں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو
مرزا غالبجس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
مرزا غالبکوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے
مرزا غالبگر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
مرزا غالبہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
مرزا غالبشمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
مرزا غالبخموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
مرزا غالبگر نہ اندوہ شب فرقت بیاں ہو جائے گا
مرزا غالبشب کہ وہ مجلس فروز خلوت ناموس تھا
مرزا غالبجب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
مرزا غالبکارگاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے
مرزا غالبجو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
نواب مرزا خان داغکعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
نواب مرزا خان داغکہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
نواب مرزا خان داغکون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا
نواب مرزا خان داغخاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
نواب مرزا خان داغ