میراثمیراث
PoetsSherGhazalsNazmsTagsCollections
Sign in
میراث

اردو اور ہندی شاعری کا زندہ ذخیرہ — مفت، کھلا، تین رسم الخط میں۔

تلاش
شعرااشعارغزلیںنظمیںکیفیات اور موضوعاتٹاپ 20مجموعے
تعارف
میراث کا تعارفلغت
قانونی
رابطہپرائیویسی پالیسیشرائطِ استعمالکوکی ترتیبات
© 2026 میراث · ایک کھلا ذخیرہ

شعر

یہ جو رواں ہیں چار سو اتنے دھوئیں کے آدمی

کس لیے چوب سبز کو آگ سے آشنا کروں

ظفر اقبال

قید کرے تو آپ ہے قید سہے تو آپ ہے

میں کسے روکتا پھروں اور کسے رہا کروں

ظفر اقبال

رات رکی ہے آن کر زرد سفید گھاس پر

لاکھ سخن ہے درمیاں کس سے کسے جدا کروں

ظفر اقبال

شاخ ہلی تو ڈر گیا دھوپ کھلی تو مر گیا

کاش کبھی تو جیتے جی صبح کا سامنا کروں

ظفر اقبال

پتا چلا کوئی گرداب سے گزرتے ہوئے

نہ بند ہوتے ہوئے باب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

کہ یہ تو رکھتا پریشان ہی مجھے شب بھر

میں جاگ اٹھا ہوں ترے خواب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

میں اپنے دل کے اندھیروں کو یاد رکھتا ہوں

ترے بدن کی تب و تاب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

ہوائے خوف خزاں میں لرزتا رہتا ہوں

کسی بھی وادئ شاداب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

مجھے جو ملتی نہیں دشمنوں کی خیر خبر

تو پوچھ لیتا ہوں احباب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

زمیں پہ دیکھتا ہوں آب میں گلاب رواں

اور آسمان پہ سرخاب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

میں چھوڑ آیا ہوں پیچھے ہزارہا مینڈک

سخن سرائی کے تالاب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

مجھے تو ایک بہانہ ہی چاہیئے تھا فقط

کہ ڈوب جاؤں گا پایاب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

کہاں چلی گئیں کرکے یہ توڑ پھوڑ ظفرؔ

وہ بجلیاں مرے اعصاب سے گزرتے ہوئے

ظفر اقبال

اسی سے آئے ہیں آشوب آسماں والے

جسے غبار سمجھتے تھے کارواں والے

ظفر اقبال

میں اپنی دھن میں یہاں آندھیاں اٹھاتا ہوں

مگر کہاں وہ مزے خاک آشیاں والے

ظفر اقبال

مجھے دیا نہ کبھی میرے دشمنوں کا پتا

مجھے ہوا سے لڑاتے رہے جہاں والے

ظفر اقبال

مرے سراب تمنا پہ رشک تھا جن کو

بنے ہیں آج وہی بحر بیکراں والے

ظفر اقبال

میں نالہ ہوں مجھے اپنے لبوں سے دور نہ رکھ

مجھی سے زندہ ہے تو میرے جسم و جاں والے

ظفر اقبال

یہ مشت خاک ظفرؔ میرا پیرہن ہی تو ہے

مجھے زمیں سے ڈرائیں نہ کہکشاں والے

ظفر اقبال

یوں تو ہے زیر نظر ہر ماجرا دیکھا ہوا

پھر نہیں دیکھا ہے وہ رنگ ہوا دیکھا ہوا

ظفر اقبال