دل کے نقشے — اس کے شہر، کھنڈر اور خاموش کمرے۔
ہر شاعر اسی دل کو الگ انداز میں کھینچتا ہے۔
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
ہر نفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی
میں خود بھی تو نہیں اپنا خریدار زندگی
ہر رات کے آخر میں چھپی ایک سحر ہوتی ہے
تھکی آنکھوں میں بھی کوئی نئی دوپہر ہوتی ہے
میں اپنا شہر چھوڑ آئی پر شہر نہ چھوڑ سکا مجھے
ہر خواب میں وہی گلی وہی گھر وہی در ہوتا ہے