امید — وہ چھوٹی، ضدی روشنی جو ہر سحر لوٹ آتی ہے۔
دن کا آغاز یہیں سے کریں۔
ہر رات کے آخر میں چھپی ایک سحر ہوتی ہے
تھکی آنکھوں میں بھی کوئی نئی دوپہر ہوتی ہے
میں اپنا شہر چھوڑ آئی پر شہر نہ چھوڑ سکا مجھے
ہر خواب میں وہی گلی وہی گھر وہی در ہوتا ہے
وہ عورت جو چپ رہتی ہے اسے کمزور نہ سمجھو
اس کی خاموشی میں چھپا ایک سمندر ہوتا ہے
چھتوں پہ اترتی ہے جب پہلی کرن سحر کی
تو شہر کی ہر کھڑکی میں ایک چراغ سا جلتا ہے
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
الفت کا جس سے مجھ کو دم بھر کو واسطہ ہے
میں ایک مسافر ہوں میری منزل کوئی نہیں
ہر راہ میری ہے اور ہر گھر میرا نہیں
دن بھر کی محنت کے بعد جب روٹی نظر آتی ہے
تو مزدور کے ہاتھوں میں پوری کائنات آتی ہے