اقبال کا سب سے ولولہ انگیز کلام — خودی، جدوجہد اور بے چین روح۔
اقبال خودی سے جاگنے اور اُٹھنے کو کہتے ہیں۔
خودی
علامہ اقبالخودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں