کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نہیں آتی
کا اک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
عشق نے غالب نکمّا کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور