تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
تم ہو ہر جا تو کیوں نہیں موجود
ہم جہاں ہیں وہاں نہیں ہوتا
حالِ یار کو لکھوں کیوں کر
ہاتھ سے جدا نہیں ہوتا
مر گئے پر نہ لگا ہاتھ ادھر
یاد تھا جو وہاں نہیں ہوتا
آئے ہو کل جو مومن اس کے پاس
آج کیوں کچھ بیاں نہیں ہوتا
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
الفت کا جب نتیجہ دیدار ہو گیا
اب حسن و عشق دونوں کا اعتبار ہو گیا
مر گئے ہم جو غیر کی سنی
ہجر میں اضطراب کس کو تھا
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح