اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
بے طلب دے تو مزہ اس میں ہے
وہ جو مانگیں تو مزہ نہیں ہوتا
تمہارے خط میں نیا اک سلام تھا
پھر ہوا کیا جو آبنا نہیں ہوتا
دردِ کس سے میں کہوں اے دوست
کوئی محرمِ آشنا نہیں ہوتا
مومن اپنی تو یہ ہے سدا
تجھ سے بہتر کوئی خدا نہیں ہوتا
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
الفت کا جب نتیجہ دیدار ہو گیا
اب حسن و عشق دونوں کا اعتبار ہو گیا
مر گئے ہم جو غیر کی سنی
ہجر میں اضطراب کس کو تھا
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح