وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
تمہیں ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا
تمہیں ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی
جو تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کہے مومن اب تو وہ دل نہیں
جسے تم نے توڑ دیا کبھی
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
الفت کا جب نتیجہ دیدار ہو گیا
اب حسن و عشق دونوں کا اعتبار ہو گیا
مر گئے ہم جو غیر کی سنی
ہجر میں اضطراب کس کو تھا
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح