جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا جدھر دیکھا
رازِ ہستی سمجھ سکے نہ کوئی
ہر طرف جب بھر کر دیکھا
دل کی بستی اجاڑ سی دیکھی
جب کبھی اُس طرف اُدھر دیکھا
عمر ساری گزر گئی یوں ہی
نہ کبھی اپنے گھر کا در دیکھا
دردِ دل لے کے آ گیا ہوں میں
جس طرف میں نے اپنا سر دیکھا
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
ساری عمر رویا کیے ہم
ہائے کیا دن تھے کہ ہم بھی تھے