تجھ سے بچھڑ کے میں نے جیا ہے دل تھام کے
ہر سانس آنسوؤں سے پیا ہے دل تھام کے
تیری گلی سے لوٹ کے آیا ہوں رات کو
یہ زخم پھر سے میں نے سیا ہے دل تھام کے
محفل میں تیری یاد کا دیا جل اُٹھا جب
میں نے اُسے چھپا کے لیا ہے دل تھام کے
دنیا کہے کہ صبر کرو اور صبر کر بھی
لیکن یہ درد میں نے جیا ہے دل تھام کے
اے درد عشق کا یہ کرم ہے کہ آج تک
ہر غم کا جام میں نے پیا ہے دل تھام کے
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
ساری عمر رویا کیے ہم
ہائے کیا دن تھے کہ ہم بھی تھے