کی لگی کا کوئی بھی درماں نہیں ہے
اس کی دنیا میں کوئی سامان نہیں ہے
ہر سمت اندھیرا ہے مگر دل میں دیا ہے
اس راہِ محبت میں کوئی ویران نہیں ہے
وہ آئے نہ آئے مگر امید تو قائم
اس دل میں ابھی تک کوئی نقصان نہیں ہے
آتش جو ملا صبر سے سب اس کو سنبھالا
دنیا کی کسی شے کا کوئی ارمان نہیں ہے
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
باہر نکل کے دیدۂ حیراں کے چار سو
عالم ہے حسنِ یار کے جلوے میں غرق کیا
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
لپٹتی ہے دھواں بن کے یہ آہِ دلِ زار
مرے نکلتے ہی گھر سے چراغ بجھتے ہیں
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے