چپکے چپکے دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً
اور دوپٹے سے تیرا وہ منہ چھپانا یاد ہے
تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا
اور تیرا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے
دور بیٹھے ہی سے وہ کرنا اشاروں میں کلام
آنکھ سے آنکھوں کو وہ اپنی ملانا یاد ہے
حسرت ان کی بے زبانی ہی سے سب کچھ کہہ گئے
عشق میں پیمانِ الفت کا نبھانا یاد ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
کھینچ لو اپنی نگاہوں کے فسانے حسرت
آج کچھ تیری طبیعت ہے اداسی کے قریب
مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی رہی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی رہی
نظرِ شوق بھی سہم سہم دلِ بے تاب بھی تھم تھم
نہ پوچھ عالمِ بے تابیِ دل آج رات تو بس تھم تھم
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتشِ گل سے چمن تمام
ہے مشہور کہ حسرت کو ہے شب کا آرام
شوق وہ ہے کہ سحر تک نہیں سونے دیتا
آدمی آدمی سے ملتا ہے
جگر مرادآبادیزمانہ ہے
جگر مرادآبادی