وہ مسکراتے ہیں مجھ پر یہاں کبھی کبھی
تو کھل اٹھے ہے یہ گلشنِ جان کبھی کبھی
جو ہجر میں بھی سکونِ کی طلب تھی مجھے
وہ بن کے آتی ہے تیری کبھی کبھی
یہ عشق ہے کہ ہر ایک غم کو بھلا دیتا ہے
ہنسا بھی دیتا ہے مجھ کو نہاں کبھی کبھی
یہ حسرتِ دلِ ناشاد بھی عجب شے ہے
کہ بن کے آتی ہے میری داستان کبھی کبھی
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
کھینچ لو اپنی نگاہوں کے فسانے حسرت
آج کچھ تیری طبیعت ہے اداسی کے قریب
مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی رہی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی رہی
نظرِ شوق بھی سہم سہم دلِ بے تاب بھی تھم تھم
نہ پوچھ عالمِ بے تابیِ دل آج رات تو بس تھم تھم
روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتشِ گل سے چمن تمام
ہے مشہور کہ حسرت کو ہے شب کا آرام
شوق وہ ہے کہ سحر تک نہیں سونے دیتا