اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
ہر نفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت گویا
نام ہے مر مر کے جیے جانے کا
دل کی بستی بھی عجب بستی ہے اس دنیا میں
یہاں ہر شخص کو ہے شوق فقط مٹ جانے کا
فانی اس درد کو سینے میں چھپائے رکھنا
یہ بہانا ہے فقط دل کے بہل جانے کا
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
ہر نفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی
میں خود بھی تو نہیں اپنا خریدار زندگی
فانی دنیا میں تمہارا کوئی ہمدم ہی نہیں
کس سے کہیے کہ تری یاد بھلا دی ہے مجھے
یہ درد ہی ہے جو اب تک سنبھالے بیٹھا ہے
نہ ہو یہ درد تو بکھرا ہوا یہ دل بھی نہیں
تنہائی کی ایک رات تھی اور میں تھا فانی
صدیوں میں گزر پائی وہ لمحوں کی کہانی