شبِ کی تنہائیاں گزرتی ہیں
ہر ایک سانس پہ صدیاں سی آ کے گرتی ہیں
چراغ بجھ گیا لیکن دھواں باقی ہے
تیری ہی کا سایہ یہاں باقی ہے
میں اپنے دل کو سنبھالوں تو کس طرح سنبھالوں
کہ درد ہے کہ دوا ہے اسے نہ میں جانوں
تو دور ہو کے بھی نزدیک ہے میری جانِ مومن
یہی خیال ہی اب زندگی ہے میری جانِ مومن
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
الفت کا جب نتیجہ دیدار ہو گیا
اب حسن و عشق دونوں کا اعتبار ہو گیا
مر گئے ہم جو غیر کی سنی
ہجر میں اضطراب کس کو تھا
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح