ڈھل رہی ہے اور میں جاگ رہا ہوں اکیلا
ہر تارا بجھ چکا ہے، بس کا دیا ہے جلتا
وہ جو گیا تھا کہہ کے کہ پھر لوٹ کے آؤں گا میں
اُس راہ کو تاکتا ہوں، کوئی نقش نہیں ابھی تک
یادوں کے سائے لمبے، اِن دیواروں پہ ہیں پھیلے
میں اور میری تنہائی، دو ہم سفر ہیں اِس شب کے
اے درد یہ غم کا موسم گزرے گا کبھی تو آخر
صبح ہوگی تو یہ آنسو بھی اوس بن کے اڑ جائیں گے
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
ساری عمر رویا کیے ہم
ہائے کیا دن تھے کہ ہم بھی تھے