جب کھلے گلشن میں اور باغ میں آئی ہریالی
ہر سمت بہاروں کا میلہ ہر شاخ پہ رنگ و خوشحالی
کوئل کی صدا ہر آم پہ ہے اور کی ہے متوالی
یہ پھاگن کا موسم آیا ہے لے آیا رنگ اور پیالی
ہر گلی میں ہے دھوم مچی اور ہر آنگن ہولی والی
سب کھیل رہے ہیں رنگ یہاں کوئی پیلا کوئی لال و حالی
یہ سارے نظارے دیکھ کے کہہ دے نظیر کہ ہے خوشحالی
قدرت نے سجایا ہے یہ چمن ہر شے ہے پھولوں والی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
ٹک حرص و ہوس کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
یاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمی
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی
جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
اور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
ہر ایک مقام سے آگاہ ہے وہ سارا جہان
جسے دیا ہے خدا نے دماغ اور دل بھی
کچھ پاس تھے تو کچھ نہیں، کچھ آس تھے تو کچھ نہیں
بنجارا پن ہے زندگی، ہر شے مسافر کی طرح
دیکھی قلندروں کی طرح آنکھ کھول کر
دنیا کی گردشوں کو پھرا ہوں ٹہل کر