جب اپنی چادر سمیٹ کر اٹھتی ہے
تو اس کی ہر کھڑکی ایک آنکھ کی طرح کھلتی ہے
دودھ والا چائے والا اخبار پھینکنے والا
سب اپنی اپنی راہ پہ نکل پڑتے ہیں
مائیں بچوں کو جگاتی ہیں سپنے سمیٹے ہوئے
چائے کی کیتلی میں ابلتا ہے ایک پورا دن
اور میں چھت پہ کھڑی دیکھتی ہوں
کہ کیسے ہر سحر ایک نئی امید لے کے آتی ہے
ہر رات کے آخر میں چھپی ایک سحر ہوتی ہے
تھکی آنکھوں میں بھی کوئی نئی دوپہر ہوتی ہے
میں اپنا شہر چھوڑ آئی پر شہر نہ چھوڑ سکا مجھے
ہر خواب میں وہی گلی وہی گھر وہی در ہوتا ہے
وہ عورت جو چپ رہتی ہے اسے کمزور نہ سمجھو
اس کی خاموشی میں چھپا ایک سمندر ہوتا ہے
چھتوں پہ اترتی ہے جب پہلی کرن سحر کی
تو شہر کی ہر کھڑکی میں ایک چراغ سا جلتا ہے
یادوں کے پرانے صندوقوں میں ایک خوشبو رہتی ہے
جسے کھولو تو بچپن کا پورا موسم ملتا ہے
تیرے جانے کے بعد بھی تو میرے ساتھ رہا
ہر شام چائے کی پیالی میں تیرا عکس اترا