میری میرا آخری گھر ہے
جسے میں پردیس میں بھی ساتھ لے کے چلتی ہوں
جب کوئی مجھے میری بولی میں پکارتا ہے
تو لگتا ہے جیسے ماں نے آواز دی ہو
ہر لفظ میں چھپی ہے میری مٹی کی
ہر محاورے میں بسا ہے میرے بچپن کا آنگن
میں اپنی زبان کو نہیں بھولوں گی کبھی
کیونکہ یہی تو میری اصلی پہچان ہے
میں مشرق کی بیٹی ہوں مگر مغرب میں بسی ہوں
دو دنیاؤں کے درمیان ایک پل سی تنی ہوں
وطن وہ نہیں جہاں پیدا ہوئے تھے ہم
وطن وہ ہے جہاں دل کو قرار آتا ہے
اپنی زبان کو پردیس میں یوں سنبھالے رکھتی ہوں
جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے
دور سے دیکھتی ہوں تو مشرق اور بھی روشن لگتا ہے
شاید دوری ہی محبت کا اصلی رنگ دکھاتی ہے
رات کے اس پار بھی ایک رات میری منتظر ہے
دو ملکوں کے درمیان میرا چاند بٹا ہوا ہے
ہر شام یہاں ڈھلتی ہے تو وہاں صبح ہوتی ہے
میں دونوں کے بیچ کہیں گم سی رہ جاتی ہوں