اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
اُنہی دلی کی شاموں کے ہم عصر۔