جاگتی گھڑیاں، چاند، اور وہ شہر جو سوتا نہیں۔
چار صدیوں کے فاصلے پر بھی وہی چاند پہرا دیتا ہے۔
ہر ہاتھ میں ایک روشن سا شفاف سا آئینہ ہے
مگر کوئی کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھتا
نیند آنکھوں سے روٹھ کے کہیں چلی گئی ہے
اور میں ہوں یہ رات ہے اور ایک جلتی اسکرین ہے
شہر سو جاتا ہے پر اس کی روشنی نہیں سوتی
ہر کھڑکی ایک جاگتی ہوئی آنکھ کی طرح ہوتی ہے
ہر رات کے آخر میں چھپی ایک سحر ہوتی ہے
تھکی آنکھوں میں بھی کوئی نئی دوپہر ہوتی ہے
میں اپنا شہر چھوڑ آئی پر شہر نہ چھوڑ سکا مجھے
ہر خواب میں وہی گلی وہی گھر وہی در ہوتا ہے
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشان ہونا
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
الفت کا جس سے مجھ کو دم بھر کو واسطہ ہے
یہ سمجھتے تھے کہ پاسِ وفا کرتے ہیں
لو وہ بھی کہہ دیا کہ ہم جفا کرتے ہیں