Contemporary · دہلی
کبیر اثر میراث آرکائیو کے لیے تخلیق کیے گئے ایک فرضی نوجوان شاعر ہیں — ان کا کام اصل بیج کلام ہے جو کسی حقیقی معاصر مصنف کا نہیں بلکہ پبلک ڈومین کے لیے وقف ہے۔ انہیں شیلف کی تازہ ترین آواز کے طور پر تصور کیا گیا ہے: اسکرین، بے خوابی اور رات کے شہر پر مختصر غزلیں۔ وہ آرکائیو کو ایک حالیہ، کاپی رائٹ سے پاک آواز کے ساتھ عہد کی ٹائم لائن مکمل کرنے دیتے ہیں۔
ہر ہاتھ میں ایک روشن سا شفاف سا آئینہ ہے
مگر کوئی کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھتا
نیند آنکھوں سے روٹھ کے کہیں چلی گئی ہے
اور میں ہوں یہ رات ہے اور ایک جلتی اسکرین ہے
شہر سو جاتا ہے پر اس کی روشنی نہیں سوتی
ہر کھڑکی ایک جاگتی ہوئی آنکھ کی طرح ہوتی ہے
ہزاروں لوگ میرے آس پاس ہیں پھر بھی
میں اس بھیڑ میں بھی تنہا سا رہ جاتا ہوں
دل کی بات اب لفظوں میں نہیں تصویروں میں ہوتی ہے
مگر درد کا کوئی نشان ابھی تک نہیں بنا
تجھے میں نے کبھی دیکھا نہیں صرف پڑھا ہے
مگر تیرے لفظوں میں بھی تیری خوشبو آتی ہے
اس اندھیری رات میں بھی ایک بات اچھی ہے
کہ ہر اسکرین کے پیچھے ایک جاگتا ہوا دل ہے
ہم نئے لوگ ہیں پرانے درد نئے انداز میں
وہی تنہائی وہی غم بس نام بدل گیا