تنہائی — ایک کمرے میں، بھیڑ میں، ایک صدی میں اکیلا ہونا۔
فانی اسی احساس کے اندر جیے — انہی سے شروع کریں۔
اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
ہر نفس عمرِ گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی
میں خود بھی تو نہیں اپنا خریدار زندگی
ہر ہاتھ میں ایک روشن سا شفاف سا آئینہ ہے
مگر کوئی کسی کی آنکھوں میں نہیں دیکھتا
نیند آنکھوں سے روٹھ کے کہیں چلی گئی ہے
اور میں ہوں یہ رات ہے اور ایک جلتی اسکرین ہے
شہر سو جاتا ہے پر اس کی روشنی نہیں سوتی
ہر کھڑکی ایک جاگتی ہوئی آنکھ کی طرح ہوتی ہے
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنا تھا یگانہ مگر بنا نہ گیا
عشق آزاد ہے ہندو نہ مسلمان ہے عشق
آپ ہی دھرم ہے اور آپ ہی ایمان ہے عشق