انتظار — انتظار کی ٹیس، ظفر سے آج تک۔
اردو شاعری میں انتظار اپنے آپ میں ایک موسم ہے۔
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
کھینچ لو اپنی نگاہوں کے فسانے حسرت
آج کچھ تیری طبیعت ہے اداسی کے قریب
مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی رہی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی رہی
میں مشرق کی بیٹی ہوں مگر مغرب میں بسی ہوں
دو دنیاؤں کے درمیان ایک پل سی تنی ہوں
وطن وہ نہیں جہاں پیدا ہوئے تھے ہم
وطن وہ ہے جہاں دل کو قرار آتا ہے