Classical · 1775–1862 · دہلی – رنگون
بہادر شاہ ثانی، جو ظفر کے قلمی نام سے لکھتے تھے، آخری مغل بادشاہ اور سچے جذبے کے شاعر تھے۔ ذوق اور غالب کی دہلی روایت کے شاگرد، وہ بے زاری اور تڑپ کی غزلوں کے لیے یاد کیے جاتے ہیں جو ان کی سلطنت کے بکھرتے وقت لکھی گئیں۔ 1857 کے بعد رنگون جلاوطن ہو کر وہ اُسی دہلی سے دور رخصت ہوئے جس کا ماتم انہوں نے شاعری میں کیا۔
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں
یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے
بعد مجھ کے کس کو اب ارمانِ آبادی رہی
شمع لے کر آخری آتا ہے وہ ویران میں