جہاں رومان انقلاب سے ملتا ہے — مجاز اور اختر شیرانی۔
1930 کی دہائی، جب شاعری دنیا بدلنا چاہتی تھی۔
اب اس کے بعد صبح ہے اور صبحِ نو مجاز
ہم پر ہے ختم شامِ غریبانِ لکھنؤ
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
آج پھر دل نے مچایا ہے محل کیا کروں
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اک دل ہے ہمارے پاس مگر ناشاد نہ کر
وہ آئے تو ہر رات ستاروں میں ڈھل جائے
وہ بھول بھی جائے تو مگر یاد نہ جائے
محبت کے افسانے لکھے ہیں مری جوانی نے
ہر ایک لفظ میں چھپی ایک آنسو کی کہانی ہے
وہ چاند سی صورت مری راتوں میں اتر آئے
میں نیند سے جاگ اٹھوں تو بس اس کا خیال آئے