Progressive · 1911–1955 · رودولی – لکھنؤ
اسرار الحق، جو مجاز لکھنوی کے نام سے مشہور ہیں، ترقی پسند تحریک کے رومانوی شعلہ نوا تھے۔ انہوں نے کیٹس جیسی غنائیت کو انقلابی امید سے جوڑا، اور ان کی نظم "آوارہ" بے چین جوانی کا ترانہ بن گئی۔ اپنی مختصر، پُرآشوب زندگی میں محبوب، وہ چالیس برس کی عمر میں رخصت ہوئے، تب تک ایک داستان بن چکے تھے۔ وہ شاعر جاوید اختر کے ماموں تھے۔
اب اس کے بعد صبح ہے اور صبحِ نو مجاز
ہم پر ہے ختم شامِ غریبانِ لکھنؤ
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
آج پھر دل نے مچایا ہے محل کیا کروں
اب مجھے کوئی تمنا کوئی حسرت بھی نہیں
مٹ گئے دل کے نقوش ایسی مصیبت بھی نہیں
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
بڑھا تو درد ہی دے جائے گی یہ دل کی لگن
کوئی دیا نہ جلا رات کے اندھیرے میں
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم
پکارے گی ہمارے ہیں مجاز اور ہمارے تھے