لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے
ہو عمرِ خضر بھی تو ہو معلوم وقتِ مرگ
ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے وہ ہی ہو
دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دو دن چار دن
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
شاید یہ جانتا تھا کہ تو آنے والا ہے
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے خدمتِ آقا نہ کرو تم