اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
حسنِ یوسف پہ یہ جو فدا ہوتی ہے
آئنہ دیکھے تو کیا گھر سے نکل جائیں گے
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس کی دوا کیا ہے
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
ذوق جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دو دن چار دن
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
شاید یہ جانتا تھا کہ تو آنے والا ہے
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے خدمتِ آقا نہ کرو تم