ایک ہے جو سینے میں پیماں ہو گیا
دل تھا کبھی ہمارا اب انجان ہو گیا
آنکھوں میں اب کے اشک رواں ہو گیا
سارا جہاں میں بیاں ہو گیا
ہم تو مٹے تھے ان کی تمنا میں اس قدر
ایک آہ تھی کہ جو بھی فغاں ہو گیا
امیدِ وصل کے سہارے جی رہے تھے ہم
وہ بھی شبِ فراق میں دھواں ہو گیا
ذوق اب کے غم نے کچھ ایسا لکھا ہے نام
ہر لب پہ یہ فسانۂ جاں رواں ہو گیا
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دو دن چار دن
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
شاید یہ جانتا تھا کہ تو آنے والا ہے
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے خدمتِ آقا نہ کرو تم