کو تیری ہی تمنا دل کو ہے
ہو نہ ہو ایسا ہی شاید دل کو ہے
بے قراری ہے ہمیشہ دل کو ہے
پھر بھی تجھ سے اک وفا دل کو ہے
ہوش و آرام و شکیبائی گئے
اب تو بے حد مبتلا دل کو ہے
موت مانگوں تو رہے ارمانِ موت
زیست سے بھی کیا گلا دل کو ہے
مومن افسردہ دلی کب تک رہے
تجھ سے ملنے کی دعا دل کو ہے
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
الفت کا جب نتیجہ دیدار ہو گیا
اب حسن و عشق دونوں کا اعتبار ہو گیا
مر گئے ہم جو غیر کی سنی
ہجر میں اضطراب کس کو تھا
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح