کيا چرخ کج رو ، کيا مہر ، کيا ماہ
زمانہ آيا ہے بے حجابي کا ، عام ديدار يار ہو گا
دوستارے
پھول کا تحفہ عطا ہونے پر
پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کي گواہي
يہ دير کہن کيا ہے ، انبار خس و خاشاک
تو اے اسير مکاں! لامکاں سے دور نہيں
مکتبوں ميں کہيں رعنائي افکار بھي ہے؟
ہوا نہ زور سے اس کے کوئي گريباں چاک
نہ تخت و تاج ميں ، نے لشکر و سپاہ ميں ہے
گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گيا قافلہ
تھا جہاں مدرسہ شيري و شاہنشاہي
ترے سينے ميں دم ہے ، دل نہيں ہے
خرد سے راہرو روشن بصر ہے
دعا (مسجد قرطبہ ميں لکھي گئي)
زمانہ
نادر شاہ افغان
ہارون کي آخري نصيحت
چيونٹي اورعقاب
وحي