ارض و سما کے پار بھی کوئی جہاں ہے اور بھی
اِس کے آستاں سے آگے آستاں ہے اور بھی
جانا یہی کہ کچھ نہیں جانا ہوا ہے
اِس بے خبر کے سامنے اک داستاں ہے اور بھی
آنکھوں نے جو دیکھا اُسے سب کچھ نہ جانو دوستو
پردے کے اُس پار چھپا اک رازداں ہے اور بھی
دنیا کی رونق ایک پل، پھر اُس کے بعد اندھیریا
اِس شمعِ جاں کے واسطے اک آسماں ہے اور بھی
اے درد تو جس غم میں ہے وہ غم تو بس اک نام ہے
اِس غم کے پردے میں چھپا اک مہماں ہے اور بھی
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
ساری عمر رویا کیے ہم
ہائے کیا دن تھے کہ ہم بھی تھے