ہزاروں خواہشیں ایسی
کوئی امید بر نہیں آتی
یہ نہ تھی ہماری قسمت
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں
لائی حیات
ایک درد ہے
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
ہے اور بھی
یار بنا
کہاں تک
عذر آنے میں بھی ہے
لے چلا جان مری
تیرے بعد
لگتا نہیں ہے دل
مشتِ غبار
ہو گیا
دیوانے کا
کچھ نہ رہا
شامِ دلی