تجھ لب کی بات کی شان سوں کہوں گا
ہر اک کو میں نشان سوں کہوں گا
جس دم کھلے گا رازِ محبت زبان پر
اس درد کو میں ساری جہان سوں کہوں گا
تیرے فراق میں جو گزر گیا شب و روز
ہر غم کی رات کو میں فغان سوں کہوں گا
دل کی کتاب کھول کے پڑھتا ہوں عشق کو
یہ داستان میں اہلِ بیان سوں کہوں گا
چھپتا نہیں ہے عشق ولی لاکھ چھپیے
یہ حال اپنا اب تو جہان سوں کہوں گا
کیا کہوں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو بن تیرے رہا نہیں جاتا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے بابِ سخن
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا