Classical · 1667–1707 · اورنگ آباد – احمد آباد
ولی محمد، جو ولی دکنی کے نام سے مشہور ہیں، اکثر اردو شاعری کے باوا آدم کہلاتے ہیں۔ ان کا دیوان، جو دکن سے دہلی پہنچا، نے ثابت کیا کہ غزل فارسی کے بجائے اردو میں بھی پروان چڑھ سکتی ہے۔
کیا کہوں کچھ کہا نہیں جاتا
اب تو بن تیرے رہا نہیں جاتا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
راہِ مضمونِ تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے بابِ سخن
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مجھ دلِ بیمار کا
تجھ لب کی صفت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں تیرے نین غزالاں سوں کہوں گا
سجن کے رو بہ رو جب دل کی بات آتی ہے
زبان خاموش رہتی ہے نگاہ سمجھاتی ہے