مل گئے ہیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ
اب ہم جدا ہو بھی تو یہ جدا نہیں
سو بار تجھ کو بھول کے پھر یاد کر لیا
اس دل کو تیری یاد سے کوئی گلہ نہیں
تجھ بن جہاں اداس ہے سب رنگ پھیکے ہیں
اب کون ہے جسے تری صورت ملا نہیں
راتوں کو جاگ جاگ کے ہم نے یہ جان لیا
تیرے سوا اس درد کی کوئی دوا نہیں
انشا غمِ فراق میں بھی ایک مزہ رہا
کہنے کو یہ جدا ہیں مگر دل جدا نہیں
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
سودائے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ سہے صدمے
پھر بھی دلِ ناداں کو آرام نہیں آیا
دل مل گئے ہیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ
اب ہم جدا ہو بھی تو یہ دل جدا نہیں
روز یہ بات سنا کرتے ہیں لوگ
دل لگانا کوئی آسان نہیں