پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو اِدھر بھی
ایک ایسا نظر آتا نہیں جس کو نظر بھی
درد اُس کا تجھے ہے جسے تو جان نہ سمجھے
غم خوار کوئی اور نہ ہو اے دل تو مگر بھی
دیکھا جو تجھے خاک نہ تھی پاس ہمارے
اور کچھ نہ سہی جان تھی سر تھا جگر بھی
سودا تجھے اِس درد میں مرنے کا مزہ تھا
اب جان سے گزرا تو ملی راہِ سفر بھی
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
فکرِ معاش عشقِ بتاں یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
گلشن میں بند قفس میں چمن کی یاد آتی ہے
وہ دن جو گزرے تھے آزادی میں بہت یاد آتے ہیں
عشق نے ظالم تجھے کس راہ پر ڈالا ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجابِ حسن میں چھپتے ہیں راز کیا کیا