ہزاروں خواہشیں ایسی
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
ستاروں سے آگے
کبھی اے حقیقتِ منتظر
دل سے جو بات
تیرے عشق کی انتہا
پتا پتا بوٹا بوٹا
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
دکھائی دیے یوں
اب تو گھبرا کے
گلِ رعنا
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
روز دکھلاتے ہو دامن تر
دل تھام کے
سوں کہوں گا
دلِ بیمار
آس رہی
یہ آرزو تھی
آرام نہیں آیا
گل پھینکے ہیں