سنے کوئی مرے کی کہانی اب کہاں تک
کہے کوئی غمِ دوراں کی جانی اب کہاں تک
بہاروں نے تو چھوڑا ساتھ صحرائے جنوں میں
کرے یہ چشم اشکوں کی روانی اب کہاں تک
وہ آئے بھی تو میں نے کچھ کہا بھی اور نہ سمجھے
رہے یہ گفتگوئے بے زبانی اب کہاں تک
ہوا جب صبح تو پھر شام کا لے کے بیٹھا
کٹے یہ عمرِ بے حاصل کی رانی اب کہاں تک
چلا جا اے دلِ سودا اِس اُلفت کے سفر پر
سہے یہ جسم آفت آسمانی اب کہاں تک
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
فکرِ معاش عشقِ بتاں یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
گلشن میں بند قفس میں چمن کی یاد آتی ہے
وہ دن جو گزرے تھے آزادی میں بہت یاد آتے ہیں
عشق نے ظالم تجھے کس راہ پر ڈالا ہے
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا
حجابِ حسن میں چھپتے ہیں راز کیا کیا