یہ نہ تھی ہماری قسمت
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
دکھائی دیے یوں
ایک درد ہے
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
دل تھام کے
دلِ بیمار
یار بنا
دل جدا نہیں
کہاں تک
تیرے بغیر
عذر آنے میں بھی ہے
لے چلا جان مری
تیرے بعد
کبھی کبھی
کچھ نہ رہا
شب ہجر
شبِ فراق
انتظار کی رات