سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا کیا ہے
کہتی ہے تجھ کو خلقِ غائبانہ کیا ہے
تو خود ہی سوچ اے دل یہ عشق کا سفر ہے
منزل کہاں ہے اور یہ راہِ بیگانہ کیا ہے
وہ حسن جس نے مجھ کو کیا ہے یوں بے خود
پوچھو نہ مجھ سے گردشِ پیمانہ کیا ہے
دنیا سمجھ رہی ہے جنون میرا فضول
اس کو خبر نہیں کہ یہ دیوانہ کیا ہے
آتش تمام عمر یونہی مٹ کے جی لیے
اب کیا بتائے عشق کا افسانہ کیا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ناز و انداز و ادا میں ہے ترقی دہ چند
فتنہ طفلی تھی قیامت ہے جوانی تیری
کون سے غلہ کا دانہ تو اے دانۂ خال
ہم نے ارزانی میں بھی پائی گرانی تیری
گرم جوشی سے جلایا کرے کشف و خرمن
برق ہو سکتی نہیں شوخی میں ثانی تیری
جان کی طرح سے رکھتا ہے عزیز اے گل رو
داغ دل لالہ نے سمجھا ہے نشانی تیری
مصرع تیغ ہے ہر مصرع موزوں آتشؔ
دیکھ لی یار مری سیف زبانی تیری
جب کے رسوا ہوئے انکار ہے سچ بات میں کیا
اے صنم لطف ہے پردے کی ملاقات میں کیا
اور کچھ نہیں
غلام ہمدانی مصحفی