وہ جب بھی محفلوں میں مسکرا کے دیکھتے ہیں
تو ہم بھی اپنی قسمت کو سجا کے دیکھتے ہیں
نظر جھکا کے وہ لیکن چرا لیتے ہیں
عجب ہنر ہے کو بچا کے دیکھتے ہیں
یہ حسن والے بھی کیا خوب راز رکھتے ہیں
کہ آگ دل میں لگا کے چھپا کے دیکھتے ہیں
ہر ایک شب کو ستاروں سے بات کرتے ہیں
کبھی وہ چاند کو بھی ہم بلا کے دیکھتے ہیں
یہ ناسخ عشق کا دستور ہے بہت ہی قدیم
کہ اپنی جان کو اس پر مٹا کے دیکھتے ہیں
گل کو محبوب میں سمجھتا ہوں
اس کو محبوب کی ادا کہتا ہوں
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
شبِ فراق کی تنہائیوں میں یاد آیا
وہ ایک شخص جو بے تاب کر گیا تھا کبھی
نہ پوچھ عالمِ بربادیِ جہانِ دل
ہر ایک گھر میں ہے اس شہر کے خرابیِ دل
محفل میں بار بار ادھر دیکھتے ہیں وہ
یہ میرا دل ہے یا کوئی جادو نظر میں ہے
وفا کے باب میں وہ بے وفا نکلا
جسے میں آشنا سمجھا وہ نا آشنا نکلا