اب میں کوئی سوز نہ کوئی صدا کچھ نہ رہا
تیرے بغیر میرے پاس تو کچھ نہ رہا
وہ عہدِ وفا وہ قول و قرار سب کہاں گئے
اک یاد کے سوا مجھ کو ملا کچھ نہ رہا
میں ڈھونڈتا رہا اسے ہر ایک موڑ پر مگر
لیکن میری تلاش کا صلہ کچھ نہ رہا
سیماب اس جہان سے میں یوں خالی ہاتھ چلا
جو کچھ کمایا تھا وہ بھی بچا کچھ نہ رہا
اس نے جس دم مجھے دنیا سے رخصت کر دیا
مرے ہونٹوں پر تغافل کا تبسم آ گیا
دردِ دل پاسِ وفا شوقِ فنا کچھ نہ رہا
جو تیرا تھا مرے دل میں وہ آج کچھ نہ رہا
زندگی ایک سفر ہے سہانا
یہاں کل کیا ہو کس نے جانا
رات کی تنہائیوں میں ایک صدا آتی رہی
کوئی آہٹ تھی کہ دل کی دھڑکنیں تھیں رات بھر
ناامیدیِ دل میں بھی کوئی آس تو رکھنا
اس شب کے مقدر میں سحر بھی تو لکھی ہے
محبت کی کہانی تم بھی سن لو
جدائی کے فسانے ہم بھی کہہ لیں