شب کا کچھ سرا ہی نہ تھا
یہ تھا کہ پھر کچھ رہا ہی نہ تھا
تری یاد میں آنسو بہتے رہے
کنارہ کوئی ان کا آتا نہ تھا
صبا پوچھ تجھ سے یہ اے جوئے اشک
وہ دلبر مرا کس طرف جاتا تھا
کہے میر اب درد کے اس سفر میں
کوئی ہم سفر ہم سے آگاہ نہ تھا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو