Classical · 1723–1810 · آگرہ – لکھنؤ
میر تقی میر اٹھارہویں صدی کے سب سے نمایاں اردو شاعر اور غزل کے استاد تھے۔ مغل دہلی کے زوال کے پُرآشوب دور میں جیتے ہوئے، ان کی شاعری نے نرم اداسی کو روزمرہ کی بول چال سے جوڑا۔
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے
اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے
میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئی
سر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور روی
آتی ہے شمع شب کو آگے ترے یہ کہہ کر
منہ کی گئی جو لوئی تو کیا کرے گا کوئی
بے طاقتی سے آگے کچھ پوچھتا بھی تھا سو
رونے نے ہر گھڑی کے وہ بات ہی ڈبوئی
بلبل کی بیکلی نے شب بے دماغ رکھا
سونے دیا نہ ہم کو ظالم نہ آپ سوئی
اس ظلم پیشہ کی یہ رسم قدیم ہے گی
غیروں پہ مہربانی یاروں سے کینہ جوئی
نوبت جو ہم سے گاہے آتی ہے گفتگو کی
منہ میں زباں نہیں ہے اس بد زباں کے گوئی
اس مہ کے جلوے سے کچھ تا میرؔ یاد دیوے
اب کے گھروں میں ہم نے سب چاندنی ہے بوئی
سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے
تس پہ یہ جان بہ لب آمدہ بھی محزوں ہے
اس سے آنکھوں کو ملا جی میں رہے کیوں کر تاب
چشم اعجاز مژہ سحر نگہ افسوں ہے
آہ یہ رسم وفا ہووے بر افتاد کہیں
اس ستم پر بھی مرا دل اسی کا ممنوں ہے
کبھو اس دشت سے اٹھتا ہے جو ایک ابر تنک
گرد نمناک پریشاں شدۂ مجنوں ہے
کیونکے بے بادہ لب جو پہ چمن میں رہیے
عکس گل آب میں تکلیف مئے گلگوں ہے
پار بھی ہو نہ کلیجے کے تو پھر کیا بلبل
مصرع نالہ جگر کاوی ہے گو موزوں ہے
شہر کتنا جو کوئی ان میں سرشک افشاں ہو
رو کش گریۂ غم حوصلۂ ہاموں ہے