شہر کی اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در بہ در مارا پھروں
اے غمِ کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میری نظروں پر چھوئی وہ اور میں ہوں تصویر سی
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
اب اس کے بعد صبح ہے اور صبحِ نو مجاز
ہم پر ہے ختم شامِ غریبانِ لکھنؤ
تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں
آج پھر دل نے مچایا ہے محل کیا کروں
اب مجھے کوئی تمنا کوئی حسرت بھی نہیں
مٹ گئے دل کے نقوش ایسی مصیبت بھی نہیں
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
او دیس سے آنے والے
اختر شیرانی