Progressive · 1931–2008 · کوہاٹ – اسلام آباد
احمد فراز، اصل نام سید احمد شاہ، کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے غزل کو ایک سیدھی، آج کی مٹھاس دی اور اس کا کلاسیکی ہنر بھی برقرار رکھا۔ ان کے اشعار — سب سے بڑھ کر "رنجش ہی سہی" — برصغیر کی روزمرہ زبان کا حصہ ہیں۔ فوجی حکومت کی مخالفت پر جلاوطن ہوئے، اور 2008 میں اپنے انتقال تک نرمی اور بغاوت دونوں کے شاعر رہے۔
ایک مدت سے مقدر ہے غریب الوطنی
کوئی پردیس میں نا خوش ہو تو گھر بھی جائے
اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا
میرے جھوٹ کو تولو بھی اور کھولو بھی تم
لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا
کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی
آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا
بزم میں یاروں کی شمشیر کے جوہر دیکھو
رزم میں لیکن تلواروں کو میان میں رکھنا
اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے
اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا
اس موسم میں گل دانوں کی رسم کہاں ہے
لوگو اب پھولوں کی آتش دان میں رکھنا
سب لوگ لیے سنگ ملامت نکل آئے
کس شہر میں ہم اہل محبت نکل آئے
اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو
آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے
ہر گھر کا دیا گل نہ کرو تم کہ نہ جانے
کس بام سے خورشید قیامت نکل آئے
جو درپئے پندار ہیں ان قتل گہوں سے
جاں دے کے بھی سمجھو کہ سلامت نکل آئے
اے ہم نفسو کچھ تو کہو عہد ستم کی
اک حرف سے ممکن ہے حکایت نکل آئے
یارو مجھے مصلوب کرو تم کہ مرے بعد
شاید کہ تمہارا قد و قامت نکل آئے
کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں
شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں
نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے
ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں
یہی ناصح جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں
تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ جائیں
ہم کہ ہیں لذت آزار کے مارے ہوئے لوگ
چارہ گر آئیں تو زخموں کو چھپانے لگ جائیں
ربط کے سینکڑوں حیلے ہیں محبت نہ سہی
ہم ترے ساتھ کسی اور بہانے لگ جائیں
ساقیا مسجد و مکتب تو نہیں مے خانہ
دیکھنا پھر بھی غلط لوگ نہ آنے لگ جائیں
قرب اچھا ہے مگر اتنی بھی شدت سے نہ مل
یہ نہ ہو تجھ کو مرے روگ پرانے لگ جائیں